انڈر 21 مقابلے ‘ کیمپ کوئی نہیں ‘ مقابلے ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ثابت ہونگے

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email

پشاور…پشاور سپورٹس کمپلیکس میں اگلے ہفتے ہونیوالے انڈر 21 کے مقابلے صرف ” ہاتھی کے دانت کھانے کے اور اور دکھانے کے اور” کے مصداق بن کر رہ گئے ہیں کیونکہ یہ کھیل صرف پانچ دن جاری رہینگے اور اس کا بنیادی مقصد انڈر 21 کے نئے کھلاڑیوں کی تلاش ہے تاہم حیران کن طور پر انڈر 21 کے ان مقابلوں کیلئے کوئی کیمپ نہیں لگایا گیا اور مختلف اضلاع سے براہ راست کھلاڑی پشاور پہنچائے جائینگے جہاں پر وہ مقابلوں میں حصہ تو لینگے تاہم ان کی پوزیشن اور کارکردگی پر بغیر کیمپ مقابلے سوالیہ نشان بن گئے ہیں. ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے انڈر 21 کیلئے کی جانیوالی خریداریوں سمیت ان کیلئے مختلف ٹرائلز پر اخراجات کے حوالے سے نیب اس وقت تحقیقات کررہی ہیں اور کئی انکوائریاں چل رہی ہیں جس کے باعث سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی انتظامیہ بھی صرف “آنکھوں میں منجن” ڈالنے کے مصداق انڈر 21 کے سترہ کھیلوں کے مقابلے منعقد کروا رہی ہیں جس میں سات مقابلے لڑکیوں کے جبکہ دس مقابلے لڑکوں کے پشاور اور چا رسدہ میں منعقد کروائے جائینگے.ذرائع کے مطابق ان مقابلوں کے انعقاد کا مقصد اب صرف خانہ پری ہے اسی باعث کھیلوں کیلئے کیمپ بھی منعقد کروائے جارہے. یہ مقابلے اٹھائیس نومبر سے تین دسمبر تک پشاور سپورٹس کمپلیکس میں کروائے جائینگے.