ای شاپنگ کا رجحان کورونا کے بعد بھی جاری رہے گا؟

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email

جدہ..جب دنیا کے مختلف ممالک نے کورونا کی عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاون نافذ کیا تو صارفین نے اپنی خریداری کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لے کر ای کامرس کی ترقی کو تیز کیا۔عرب نیوز کے مطابق یہ خطہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا اور امکان ہے کہ یہ رجحان کورونا کے بعد بھی جاری رہے گا۔عالمی ادائیگی کمپنی چیک آوٹ ڈاٹ کام کی ایک نئی رپورٹ کی بنیاد پر کیے گئے سروے میں 13 ہزار صارفین میں سے 83 فیصد نے کہا کہ وہ ’اگلے سال تک اپنے ای کامرس اخراجات کی موجودہ سطح کو برقرار رکھیں گے یا بڑھا دیں گے۔’رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے صارفین کے رویے میں تبدیلی قابل ذکر ہے۔ 53 فیصد سعودی جواب دہندگان نے کہا کہ وہ مہینے میں کم از کم ایک بار آن لائن خریداری کرتے ہیں۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے 76 فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ وہ رمضان کے دوران زیادہ تر آن لائن مصنوعات کثرت سے خریدیں۔رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ مارچ 2020 میں کوورنا کی وبا پھیلنے کے بعد سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ساتھ ساتھ پاکستان جو کہ میناپ کے نام سے جانا جاتا ہے میں 209 ملین مزید صارفین نے آن لائن خریداری شروع کر دی ہے۔
ای کامرس میں اضافہ خطے کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ماحولیاتی نظام میں ’زیادہ بہتر‘ ہے۔چیک آوٹ ڈاٹ کام کے علاقائی منیجر مو علی یوسف نے کہا کہ ’ایک پھلتا پھولتا ڈیجیٹل ادائیگی اور ای کامرس ماحولیاتی نظام صارفین کو زیادہ بااختیار محسوس کرنے کی طرف لے جا رہا ہے۔ فنٹیک میدان میں سٹار اپس فروغ پا رہے ہیں اور تجارتی مارکیٹیں کھل رہی ہیں۔‘رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے کے 60 فیصد صارفین اب آن لائن خریداری کرتے وقت ڈیجیٹل ادائیگی کا طریقہ استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔نہ صرف نقد رقم کم استعمال ہو رہی ہے بلکہ صارفین ادائیگی کے نئے طریقے بھی استعمال کر رہے ہیں بشمول ڈیجیٹل والیٹس اور ’ابھی خریدیں ، بعد میں ادائیگی کریں‘ سروے کیے گئے تقریباً 24 فیصد صارفین نے اس سال ’ابھی خریدیں ، بعد میں ادائیگی کریں‘ کا آپشن استعمال کیا ہے جو کہ برطانیہ اور یورپ میں 23 فیصد سے زیادہ ہے۔مو علی یوسف نے مزید کہا کہ ’یہ عالمی اور ڈومیسٹک تاجروں کے لیے مینا میں اپنے کاروبار کو بڑھانے کا ایک شاندار موقع پیش کرتا ہے۔‘ورلڈ بینک کے ایک عہدیدار نے اس سے قبل خطے میں معاشی نمو، انٹرپرینیورشپ، روزگار کے مواقع،عوامی خدمات کی فراہمی اور مالی شمولیت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔چیک آوٹ ڈاٹ کام کے علاقائی منیجر نے کہا کہ یہ خطے میں مالی شمولیت کو حل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے خاص طور پر غیر بینک شدہ اور کم بینک والی آبادی کو بااختیار بنانا۔ای کامرس اور ڈیجیٹل ادائیگی دونوں میں بے مثال ترقی بھی ایک ترقی پذیر ریگولیٹری حکومت کی عکاس ہے۔ سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک بینکنگ اور فنانس کے رجحانات کو اپنانے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔کئی خلیجی ممالک میں بنیادی پالیسیاں ’ڈیجیٹل اکانومی‘ کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی ہیں یہاں تک کہ کوویڈ 19 کے اثرات سے بھی تیز۔عرب مالیاتی فنڈ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جیسے جیسے ممالک اس بحران سے نکل رہے ہیں مضبوط ڈیجیٹل مالیاتی نظام شعبوں کے لیے اہم فوائد کی بنیاد بنانے کے لیے اہم ہو گا۔