فیس بک بھارت میں آر ایس ایس کے مسلم مخالف پروپیگنڈے کو روکنے میں ناکام: فیس بک کی ڈیٹا سائنٹسٹ کا انکشاف

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email

نیویارک….فیس بک کی سابق ملازمہ اور ہب سیلب لور فرانسس ہوگن نے حال ہی میں کمپنی کے طرز عمل اور اس کی سنگین خامیوں کے بارے میں کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ اس نے اس سلسلے میں یو ایس سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) میں شکایت درج کرائی ہے اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہوگن نے اپنے شکایتی خط کے ساتھ جو شواہد منسلک کیے ہیں ان میں ہندوستان سے متعلق فیس بک کے غلط استعمال کی ایک لمبی فہرست اور خاص طور پر دائیں بازو کی تنظیموں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(آر ایس ایس)کے نام شامل ہیں۔ہوگن نے بیان کیا ہے کہ کس طرح خوف کا ماحول پیدا کرنے والا مواد صارفین ، گروہوں اور آر ایس ایس سے وابستہ پیج کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔ ہیگن نے کمپنی کی داخلی دستاویزات کا حوالہ دیا،تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ فیس بک کس طرح عالمی تقسیم اور نسلی تشددکو فروغ دے رہا ہے اورسیاسی حساسیت کے نام پر ایسے گروہوں (ممکنہ طور پر آر ایس ایس سے وابستہ)کے خلاف کافی کارروائی نہیں کی گئی۔فرانسس ہوگن ایک ڈیٹا سائنسدان ہیںجنہوں نے مئی 2021 تک فیس بک کے ساتھ کام کیا۔ کیمبرج اینالیٹیکا کے بعد یہ دوسرا بڑا انکشاف ہے جس نے ایک بار پھر فیس بک کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور وہ اپنی شبیہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ہیگناس معاملے کے حوالے سے امریکی پارلیمنٹ کے سامنے بھی پیش ہونے والی ہے۔غیر منافع بخش قانونی تنظیم نے ہوگن کی جانب سے ایس ای سی میں شکایت درج کی ہے جسے گزشتہ پیر کی رات سی بی ایس نیوز نے عام کیا۔اگر ہم اس معاملے کی جامع تصویر دیکھیں تو یہ شکایات فیس بک کی خوفناک تصویر بناتی ہیں اوراس کی وجہ سے پورا جمہوری ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فرانسس ہیگن کے مطابق فیس بک کے ایگزیکٹیوز کمپنی کی ادارہ جاتی کوتاہیوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، جو اپنے پلیٹ فارم پر نفرت انگیز تقریراور خطرناک سیاسی بیان بازی کو ہوا دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فیس بک بھارت کو ٹیئر -0 کے زمرے میں رکھتا ہے۔ ایسے ممالک کو اس زمرے میں رکھا گیا ہے جو اہم انتخابات کے دوران زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں۔ ہندوستان کے علاوہ اس زمرے میں صرف دو اور ممالک برازیل اور امریکہ ہیں۔کیونکہ ٹیر 2 اور ٹیر 3 ممالک میں فیس بک انتخابات کے دوران کوئی خاص مانیٹرنگ نہیں کرتا۔تاہم اگر ہم اسے دوسری طرف سے دیکھیں تو اس طرح کی درجہ بندی بہت کم اہمیت رکھتی ہے،کیونکہ جعلی خبروںکے 87 فیصد وسائل امریکہ کے لیے اور باقی دنیا کے لیے صرف 13فیصد ہیں۔یہ صورتحال اور بھی تشویشناک ہے کیونکہ امریکہ اور کینیڈا کے ساتھ مل کر فیس بک کے صرف 10 فیصد فعال صارفین ہیں،لیکن یہاں زیادہ وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں۔بات صرف یہیں تک نہیں۔ اس انکشاف میں سب سے حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ فیس بک صرف تین سے پانچ فیصد نفرت انگیز تقاریر اور صرف 0.2 فیصد تشدد پر اکسانے والے مواد پر کارروائی کرنے کے قابل ہے۔ ہوگن کے مطابق فیس بک اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے کہ ہندوستان میں آر ایس ایس کے حمایت یافتہ صارفین یا گروپس کے ذریعہ کس طرح مسلم مخالف چیزیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی بہت سی غیرانسانی پوسٹیں لکھی جا رہی ہیں جہاں مسلمانوں کا موازنہ خنزیراورکتوںسے کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن کے بارے میں افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ یہ مردوں کو اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمپنی ایسی پوسٹس کا پتہ لگانے اور ان پرکارروائی کرنے کی تکنیکی صلاحیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے بنیادی وجہ یہ ہے کہ کمپنی کا نظام ہندییا بنگالی زبان میں اس طرح کے مواد کو پکڑنے کے قابل نہیں ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فیس بک نے حال ہی میں کہا کہ چار ہندوستانی زبانیںہندی،بنگالی،اردو اور تامل کمپنی کے سسٹم میں شامل کیے گئے ہیں جو نفرت انگیز تقریروں کا پتہ لگانے کے لیے مفید ہوں گی۔ ہوگن کے وکیل کی جانب سے دائر شکایت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح جعلی خبریںسوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ایک خفیہ دستاویز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انڈیا،انڈونیشیا اور فلپائن کو فی گھنٹہ ایک ملین سے ڈیڑھ ملین جعلی خبروں کے تاثرات (لائکس ، شیئرز یا کمنٹس) موصول ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیس بک کا ایک تصورڈیپ ری شیئرہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی پوسٹ کئی بار شیئر کی جارہی ہے تو اس میں سنسنی خیز،نقصان دہ یا اشتعال انگیز مواد ہونے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں شکایت میں مغربی بنگال کا ایک سروے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں 40 فیصد سب سے زیادہ شیئر شدہ مواد غیر تصدیق شدہ/جعلی ہے۔ اس کے ساتھ فرانسس ہوگن نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ فیس بکایک صارف کے متعدد اکاونٹس کے مسئلے کو حل کرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔اس سلسلے میں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کمپنی ڈپلیکیٹ اکاونٹس کو بند کرنے کی کوئی حقیقی کوشش کر رہی ہے یا اسے خدشہ ہے کہ ان اکاونٹس کو بند کرنے سے اس کے پلیٹ فارم کی مصروفیت کم ہو جائے گی۔
ہیگن نے کہا کہ فیس بک کے ایگزیکٹو اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ بی جے پی آئی ٹی سیل بیانیہ کو تبدیل کرنے کے لیے ایک صارف کے متعدد اکاونٹس کا استعمال کیسے کرتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ پہلاموقع نہیں ہے کہ فیس بک پر اس طرح کے الزامات لگائے گئے ہوں۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے زشتہ ماہ حاصل کی گئیں خفیہ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ فیس بک نے کراس چیک کے نام سے ایک پروگرام تیار کیا جو مشہور شخصیات،سیاستدانوں اور صحافیوں جیسے ہائی پروفائل لوگوں کو قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے خود ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کس طرح فیس بک انڈیانے ناراضگی کے خوف سے بی جے پی لیڈر کی مسلم مخالف پوسٹ پر کوئی کارروائی نہیں کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں جنوبی اور وسطی ایشیا کے انچارج فیس بک کی پالیسی ڈائریکٹر آنکھی داس نے بی جے پی لیڈر ٹی راجہ سنگھ کے خلاف فیس بک کے نفرت انگیزتقاریر کے قوانین کے نفاذ کی مخالفت کی تھی،اس خوف سے کہ اس سے کمپنی کے تعلقات متاثر ہوں گے۔اسی طرحدی گارجین نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ فیس بک نے ہندوستان میں جعلی اکاونٹس کو ہٹانے کا منصوبہ بنایا تھا،لیکن جیسے ہی یہ معلوم ہوا کہ اس میں ایک بی جے پی رکن اسمبلی کا بھی نام ہے وہ پیچھے ہٹ گیا۔