وزیراعلی خیبر پختونخواہ اپنی وزارت میں دعوئوں کے برعکس ای ٹینڈرنگ کا عمل شروع نہ کرسکے

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email

پشاور… وزارت کھیل و ثقافت خیبر پختونخواہ میں ای ٹینڈرنگ کا عمل شروع نہیں کیا جاسکا صوبائی حکومت کی جانب شفافیت لانے کے دعووں کے برعکس ابھی تک مینوئل طریقے سے ٹینڈرز کا اجراء کیا جارہا ہے جس کا فائدہ مخصوص فرمز اٹھا رہی ہیں اور چند مخصوص کنٹریکٹرز ہی سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ کے ٹھیکوں کے عمل میں پیش پیش ہیں.حال ہی میں دو مرتبہ ٹینڈر ہونے والے قیوم سپورٹس کمپلیکس کے نئی بلڈنگ ‘ رننگ ٹریک سمیت فٹ بال گرائونڈز کی دوبارہ تعمیر کیلئے ہونیوالے چالیس کروڑ کے ٹھیکے پرکھیلوں سے وابستہ حلقوں نے اعتراض بھی اٹھایا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے بعض پراجیکٹ ناقص میٹریل کی وجہ سے متاثر ہ چکے ہیں جس سے کھیل اور کھلاڑ ی دونوں متاثر ہورہے ہیں.قیوم سپورٹس کمپلیکس کو دوبارہ تعمیر کرنے والے کنٹریکٹر نے گذشتہ روز ٹریک کوچیک کیا تاہم اتھلیٹکس اور دیگر کھیلوں سے وابستہ افراد نے کنٹریکٹر کو ٹریک کا بیس چیک کرنے کیلئے اسے انجنیئرنگ کونسل کے پاس بھجوانے کی درخواست کی کیونکہ ان کے مطابق قیوم سپورٹس کمپلیکس میں بننے والا ٹریک کورین کمپنی نے بنایا ہے اور اسے اب بھی اسی حالت میں ہے کہ اسے چھیڑنے کی ضرورت نہیں.تاہم وزیراعلی خیبر پختونخواہ کی وزارت ہونے کی وجہ سے زیادہ تر افسران اور اہلکار آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں تادیبی کاروائی کا ڈر ہے.