پشاور آرچری نیشنل چیمپئن شپ ‘ تیراندازی کیلئے آنیوالے تیر اندازوں کے پاس ” بو “بھی نہیں

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email

پشاور… پشاور کے زرعی یونیورسٹی میں منعقد ہونیوالے آرچری کے مقابلوں میں حصہ لینے والی یونیورسٹیوں کی عجیب و غریب پالیسی ‘ ملک بھر کے تیرہ یونیورسٹیوں کے تیر انداز ان دو روزہ مقابلوں میں حصہ لینے کیلئے آئے تھے تاہم حیرت انگیز طور پر صرف پنجاب اور کراچی کی تیر اندازوں کے ساتھ سامان پورا تھا اور ان کے پاس تین “بو ” تیر اندازی کا سامان موجود تھا جبکہ دیگر یونیورسٹیوں کے پاس تیر انداز چار جبکہ ان کے پاس صرف “بو” تیر اندازی کا سامان موجود تھا جبکہ حیران کن طور پر عبدالولی خان یونیورسٹی کی ٹیم تو موجود تھی تاہم ان کے پاس کھیلنے کیلئے سامان موجود نہیں تھا تاہم وہ مقابلوں میں حصہ لینے کیلئے پہنچی ہوئی تھی جس سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں تھا کہ ان تیر اندازوں نے کسی قسم کی پریکٹس میں حصہ نہیں لیا اورصرف ” آنکھوں میں سرمہ لگانے کے مصداق ” تیرانداز حصہ لینے کیلئے پہنچے ہوئے ہیں واضح رہے کہ تیر اندازی کے سامان جسے تکنیکی زبان میں “بو “کہا جاتا ہے کی مارکیٹ میں قیمت چار سے پانچ لاکھ روپے ہیں اوریہ بیرون ملک سے منگوائی جاتی ہیں اس باعث یونیورسٹیاں بھی صرف نام کی حد تک مقابلوں کے انعقاد میں دلچسپی لیتی ہیں تاہم تیر اندازوں کو مکمل سامان مہیا نہیں کرتی جس کی بڑی مثال زرعی یونیورسٹی پشاور میں ہونیوالے مقابلوں میں تیر اندازوں کے پاس سامان کی کمی تھی..