پشاور میں سحری کے وقت ڈھول بجا کر لوگوں کو جگانے کی روایت برقرار

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email

پشاور… عصر حاضر میں جدید ترین ٹیکنالوجی جیسے موبائل فون، لائوڈ اسپیکر، ڈیجیٹل الارم کی سہولیات کے پشاور کے مختلف علاقوں میں ڈھول بجا کر لوگوں کو اٹھانے کی روایت نہ صرف برابر برقرار ہے بلکہ مذکورہ تمام ترسہولیات سے بہر ور ہونے کے باوجود بھی مسجد کمیٹیاں یا محلہ کمیٹیاں ‘سحر خوانوں’ کا بندوبست کرتی ہیں۔ ماہ رمضان میں سحری کے وقت ڈھول بجنے کی آواز گونجتے ہی وادی کا بچہ بچہ سمجھ جاتا ہے کہ سحری کے لئے جاگنے کا وقت ہے۔
ماہ رمضان المبارک کی پہلی سحری کے وقت بستیوں میں ڈھول بجنے کی گونج سنائی دیتی ہے ، جس کا سلسلہ آخری سحری تک تواتر کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں میں سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کے لئے ڈھول بجایا جاتا ہے اور ڈھول بجانے والے کو ‘سحر خوان’ کہا جاتا ہے جو رات کے سناٹے اور گھپ اندھیرے میں جان بکف اپنے مقررہ علاقے میں گلی گلی گھومتے ہوئے ڈھول بجا کر اور ‘وقت سحر’ کی آوازیں دے کر لوگوں کو جگاتا ہے۔
ڈھول بجا کر کام کرنے والے بیشتر افراد اس کام سے ثواب کی خاطر وابستہ ہیں. اور گلی گلی میں گھوم کر سحری کا وقت ہے اٹھ جائو کے نعرے لگاتے ہیں جس کے بعد ڈھول بجایا جاتا ہے. جبکہ بعض علاقوں میں مساجد سے اعلانات بھی کئے جاتے ہیں.تاہم ڈھول بجانے والے افراد کا موقف ہے کہ وہ دو بجے رات بستر سے اٹھ کر ڈھول کو اٹھا کر ڈھائی بجے سے لوگوں کو جگانے کے لئے باہر نکلتے ہیں.ان افراد کو عید کے موقع پر گلیوں آنے کے بعد لوگ مہینے بھر کی ادائیگی کرتے ہیں جن میں بیشتر گھر کی خواتین ہوتی ہیں جو بچوں کے ہاتھوں میں پیسے دیکر ان ڈھول بجانے والوں کو بھجواتی ہیں کیونکہ ڈھول کی وجہ سے انہیں سب سے زیادہ آسانی ہوتی ہیں.ایک خاتون کے مطابق یہ روایت اب ہمارے معاشرے کا ایک حصہ بن گئی ہیں جس کو برقرار رکھا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سحر کے وقت ڈھول بجنے کی آواز سنتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا سحری کے متبرک ترین وقت پر بیدار ہو رہی ہے
ا