اسلامیہ کالج ‘ آسٹروٹرف ‘ وزیراعلی کا استقبال اور معصوم بچے

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on email

مسرت اللہ جان

وزیرعلی خیبرپختونخواہ نے اسلامیہ کالج پشاور میں نئے بننے والے آسٹرو ٹرف کا افتتاح کرلیا جس پر تیس ستمبر سے شروع ہونیوالے خیبر پختونخواہ ہاکی ایسوسی ایشن اور صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے زیر انتظام ہونیوالے ہاکی لیگ کے مقابلے کروائے جائینگے -افتتاح کی تقریب کیلئے دوپہر ایک بجے کا وقت دیا گیا تھا تاہم حیران کن طور پر وزیراعلی خیبر پختونخواہ ساڑھے بارہ بجے پہنچے تھے انہوں نے حیات آباد کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ کرنا تھا شیڈول کے مطابق لیکن ٹریفک کی بدحالی کے باعث ساڑھے بارہ بجے براہ راست اسلامیہ کالج پہنچ گئے.
ان کی سواگت کیلئے اسلامیہ کالجیٹ پشاور کے معصوم بچوں کو دو گھنٹے قبل ہی تالیاں بجانے کیلئے بلایا گیا تھا اور معصوم بچے گرمی میں وزیراعلی خیبر پختونخواہ کا انتظار کرتے رہے – ایک ایسے وقت میں جب کرونا کی وجہ سے موبائل کے رنگ ٹون پر بھی سماجی فاصلے کی باتیں ہورہی ہیں سینکڑوں کی تعداد میں معصوم بچوں کو صرف وی آئی پی کی آمد کے موقع پر کھڑا کرنا تبدیلی ہی ہے کیونکہ اسی تبدیلی والی سرکار نے دو سال قبل ایک سرکلر جاری کیا تھا کہ بچوں کو کسی بھی جگہ پر وی آئی پی کی موومنٹ کے دوران کھڑا نہیں کیا جائیگا – حال ہی میں جاری ہونیوالے میٹرک کے تباہ کن رزلٹ کے بعد ان معصوم بچوں کو تالیاں بجانے کیلئے کھڑا کرنا سمجھ سے بالاتر ہے.
وزیراعلی خیبر پختونخواہ کی قبل از وقت آمد کیلئے سیکورٹی کے اتنے انتظامات کئے گئے تھے کہ یونیورسٹی روڈ کے دونوں سائیڈوں پر پولیس اہلکار سمیت یونیورسٹی میں پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات تھی.اسلامیہ کالج میں ہونیوالی اس تقریب میں دیگر وزراء بشمول تیمور جھگڑا ‘ محمود جان ‘ کامران بنگش بھی موجود تھے . افتتاح کے موقع پر سخت گرمی میں انگریزی فلموں کی طرح کالے کوٹ اور نکٹائی سمیت کالا چشمہ پہن کر سیکورٹی ادا کرنے والوں نے افتتاح کے بعد میڈیا والوں کا وہ حال کردیا کہ دھکے تک دئیے کہ کوریج کیلئے اکیڈمی میں جانا منع ہے – اسی دھکم پیل میں اسلامیہ کالج کے بعض اساتذہ بھی خان سے بڑھ خان کے چمچے بننے کی کوشش کرتے رہے اور میڈیا والوں کو کہتے رہے کہ آپ کیوں جارہے ہیں. یہ توشکر ہے کہ بعد ازاں وزیراعلی کے میڈیا کے نگران چترال کے ایک شریف سرکاری اہلکار نے صحافیوں کو کوریج کیلئے چھوڑ دینے کیلئے خود سیکورٹی اہلکاروں سے بات کی لیکن اس دوران وہ دھکے کھانے پڑے کہ الامان الحفظ.,.
حیران کن طور پر اس پروگرام میں ہاکی ایسوسی ایشن کے کسی عہدیدار کو مدعو نہیں کیا گیا تھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے وزیراعلی کے سامنے سپورٹس اکیڈمی کی بات کی اور کہا کہ ہمارے یونیورسٹی کیلئے سپورٹس اکیڈمی بنائی جائے تاہم کنفیوژن کا شکار وائس چانسلر وزیراعلی کو یہ نہیں بتا سکے کہ سپورٹس اکیڈمی کس کھیل کیلئے ہوگی ‘ بس یہ کہتے رہے کہ کامیاب جوان پروگرام میں عثمان ڈار سے ملاقات میں ہمیں پتہ چلا ہے ‘ حد سے زیادہ شریف سوات سے تعلق رکھنے والے وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس کو اس موقع پر بلایا جو سیکورٹی اہلکاروں اور اسلامیہ کالج کے اساتذہ کی دھکم پیل سے پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی پہنچ گئے اور انہوں نے سوال کیا کہ سپورٹس اکیڈمی کس چیز کی ‘ البتہ وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے اس معاملے میں سپورٹس ڈائریکٹریٹ کو تعاون کا کہہ دیا- ویسے آپس کی بات ہے کہ ہاکی کیلئے آسٹرو ٹرف تو بن گیا کرکٹ کیلئے ان کے پاس جگہ ہے اب وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی کے ا س ڈیمانڈ سے سمجھ میں آرہا ہے کہ وہ شائد سٹیڈیم کی ڈیمانڈ کررہے ہیں تاکہ سترہ کھیل ان کے طلباء و طالبات کھیل سکیں. لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامیہ کالج سے نکلنے والے کھلاڑی کتنے ہیں اور کیا صرف اسلامیہ کالج میں ہی سرخاب کا پر لگا ہے کہ جس کیلئے پورا نیا سٹیڈیم یونیورسٹی میں بنایا جائے . یہ وہ سوال ہے جو وائس چانسلر کو خود سوچنے کی ضرورت ہے تاہم ان کی بات بھی بری نہیں .میٹرک اور ایف ایس سی کے حالیہ نتائج کے بعد شائد انہیں اندازہ ہوا ہوگا کہ اب تو ہم تعلیم میں ویسے بھی پیچھے رہ گئے شائد کھیلوں کے میدان میں آگے آجائیں.خیر..
اسلامیہ کالج کی حدود میں سڑک کنارے بننے والے اس آسٹرو ٹرف کے بارے میں آسٹرو ٹرف کے ماہرین ہی بات کرسکتے ہیں یا پھر وہ صاحبان جنہوں نے اس ٹر ف کی منظوری دی تھی لیکن سڑک کنارے بننے والے اس آسٹرو ٹرف کا حال شائد چھ ماہ بعد پشاور کے لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم جیسا ہی ہوگا حالانکہ وہ روڈ کنارے سے دور ہے لیکن گندگی اور دھول کی وجہ سے اس کا برا حال ہے یہ تو شکر ہے کہ 80 لاکھ روپے کی لاگت سے لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم کیلئے صفائی کی مشین آگئی لیکن اسلامیہ کالج پشاور کی انتظامیہ سڑک کنارے بننے والے اس آسٹرو ٹرف کی صفائی کیلئے کیا انتظام کرے گی جس میں نہ صرف سڑک کا گند اور دھول اٹھ کر آسٹرو ٹرف کو خراب کرے گا بلکہ ساتھ واقع گھاس کے میدان اور مٹی بھی اس میں اپنا کردار ادا کریگی-
یہ واحد آسٹرو ٹرف ہے جس کے چار کونوں میں کہیں پر بھی شائقین کیلئے بیٹھنے کی جگہ نہیں ‘ نہ ہی میڈیا کیلئے کوئی ایسی جگہ بنائی گئی ہیں جہاں سے براہ راست کیمرہ اسے کور کرسکیں-جنگلے میں بند اس آسٹرو ٹرف کو دیکھنے والے ہاکی کے شائقین کیلئے اس جگہ پر گیم دیکھنا بھی بڑا امتحان ہوگا.جس پر اس کی منظوری دینے والے سی اینڈ ڈبلیو کے اہلکاروں کو بھی اکیس توپوں کی سلامی کی ضرورت ہے – جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا ہے کے مصداق اگر شائقین نہیں آئینگے انہیں بیٹھنے کی سہولت میسر نہیں ہوگی تو پھر ہاکی کا فروغ کیسے ہوگایہ بھی بڑا سوالیہ نشان ہے.ایسا سوالیہ نشان جو منصوبہ سازوں کے اعلی دماغ اور ان کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے.
اسٹرو ٹرف ہاکی کے کھیل کا ایسا میدان ہے جس پر پانی ڈالنے ضرورت ہوتی ہے لیکن افتتاح کے موقع پر پانی آسٹرو ٹرف پر نہیں ڈالا گیا تھا ‘ بقول ایک ہمار ے نیم صحافی اور نیم سرکاری افسر کے ‘ کہ پانی کا کوئی مسئلہ نہیں البتہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وزیراعلی کے پائوں گیلے نہ ہو جائیں اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ اس طرح مٹی آسٹرو ٹرف پر جانے کا خطرہ تھا .یہ ان کا موقف ہے لیکن پانی کا مسئلہ اس جگہ کا بڑا مسئلہ ہے اور ساتھ میں بجلی بڑے بل کا ڈر بھی شائد اسلامیہ کالج کی انتظامیہ کو ہو. لیکن ایک بات ہے کہاگر آسٹرو ٹرف کو زندہ اور انہیں الگ ہونے سے بچانا ہے تو پھر انہیں ہر حال میں پانی دینا لازمی ہے ورنہ دوسری صورت میں انا للہ وانا علیہ راجعون..ویسے بھی غریبوں کے خون پسینے کی کمائی اور ٹیکسوں سے بننے والے ان جگہوں کو سرکاری افسران اور سیاسیوں کو کیا پروا ہے. یہ اس ملک کی بھوکی اور ننگی عوام بہتر جانتی ہے.
افتتاح کے بعد وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے اسلامیہ کالج میں اپنے دورطا لب میں کھیلے جانیوالے ہاکی کے میچ کا ذکر کیااور یادیں تازہ کرتے رہے اسی دوران اسلامیہ کالج کے اہلکار اور ہاکی کے کھلاڑی وزیراعلی کے معاون کامران بنگش کیساتھ تصاویر اور سیلفیاں نکالنے میں مصروف رہے ‘ویسے یہاں بھی وزیراعلی کے حوصلے کی داد دینی ہوگی کہ انہوں نے تین مرتبہ میڈیا سے بات چیت کی اور ان کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں آئی البتہ ان کے آگے پیچھے پھرنے والے ” خان سے زیادہ خان کے چمچے بننے”کی کوشش کرتے رہے.بعد ازاں وزیراعلی نے آسٹرو ٹرف کے باہر پودا بھی لگایا ‘ چار پودے اور بھی لگانے تھے جس کیلئے جگہیں کھودی گئی تھی اور پودے بھی رکھے گئے تھے لیکن صرف وزیراعلی نے پودا ررکھا ‘ مٹی ڈالا البتہ پانی دینے کے بجائے صرف دعا کی اور نکل گئے ‘ تیمور جھگڑا ‘ کامران بنگش اور محمود جان اپنے حصے کے پودے نہیں لگاپائے جس کی انتظامیہ نے بھی اتنی پروا نہیں کی اور پھر وزیراعلی سے اسلامیہ کالج میں پارٹی سے تعلق رکھنے والے انصاف سٹوڈنٹس ونگ کے طلباء سے مل گل گئے اور یوں یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا.جس پر سب سے زیادہ شکر دو گھنٹے سے زائد کھڑے رہنے والے اسلامیہ کالجیٹ پشاور کے بچوں نے کیا.بقول ایک طالب علم کے دو گھنٹے سے کھڑا کیا تھا کسی نے پانی کا بھی نہیں پوچھا…